باتیں کچہ انکہی سی
کچھ انسنی سی ہونے لگی
قابو دل پہ رہا نہ
ہستی ہماری کھونے لگی
وہ وہ او او ہو
وہ وہ او او ہو
وہ وہ او او ہو
شاید یہی ہے پیار
کہہ دے مجھ سے دل میں کیا ہے
ایسا بھی کیا غرور
تجھ کو بھی تو ہو رہا ہے
تھوڑا اثر ضرور
یہ خاموشی جینے نہ دے
کوئی تو بات ہو
تو ہی میری روشنی ہے
تو ہی چراغ ہے
دھیرے دھیرے مٹ جائے گا
ہلکا سا داغ ہے
یہ زہر بھی یوں پیا ہے
جیسے شراب ہو
کچھ انسنی سی ہونے لگی
قابو دل پہ رہا نہ
ہستی ہماری کھونے لگی
وہ وہ او او ہو
وہ وہ او او ہو
وہ وہ او او ہو
شاید یہی ہے پیار
کہہ دے مجھ سے دل میں کیا ہے
ایسا بھی کیا غرور
تجھ کو بھی تو ہو رہا ہے
تھوڑا اثر ضرور
یہ خاموشی جینے نہ دے
کوئی تو بات ہو
تو ہی میری روشنی ہے
تو ہی چراغ ہے
دھیرے دھیرے مٹ جائے گا
ہلکا سا داغ ہے
یہ زہر بھی یوں پیا ہے
جیسے شراب ہو
Lyricist: Sandeep Srivastava
Film: Life in a... Metro (2007)
Film: Life in a... Metro (2007)
No comments:
Post a Comment